پوسٹ – 2016-05-05

ایم کیو ایم کو اس کے کیئے کی سزا مل رہی ہے لیکن آفتاب احمد کا ماورائے عدالت قتل ظلم ہے ۔۔n جیسی بکواس کرنے والوں پڑھے لکھے تحریکی جہلا کے نام nnپر:nnخوش نصیب ترین بدقسمت کہ قدرت کے علاوہ سب ان کے ساتھ ہیں”nفاروق ستار کے کوآرڈینٹر کی لاش اوراس پر تشدد کے نشانات دیکھ کردل دھل گیا ؟
اب میری سنیں۔۔
یہ 18 اپریل 2005 کی بات ہے جناح سائنس کالج کے خوبرو نوجوان طالب علم فرحان آصف کو آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن APMSO کے کارکنوں نے اغواء کیا، اغواء کے بعد اس کے جسم پر بدترین تشدد کیا گیا، جسم پر جگہ جگہ سگریٹ کے نشان لگائے، گھٹنے میں ڈرل مشین سے سوراخ کرکے تارکول ڈالاگیا، پاؤں کے تلوے پر کیل ٹھوکی گئیں اور سر اور گردن میں لوہے کی راڈ ماری گئی، فرحان آصف ابھی کالج کا بچہ تھا تشدد نا سہہ سکا جان دیدی۔ لاش کو بھائی لوگ سائٹ ایریا کراچی میں ایک نالے میں پھینک گئے۔ وہاں سے اسے عباسی شہید (ایم کیوایم کے گڑھ) میں لایا گیا۔۔۔۔۔
پرنٹ اور الیکڑانگ میڈیا کو لاش دکھائی گئی، صحافیوں کو تصاویر بھیجی گئیں لیکن 2005 میں کس میں اتنی جرات کہ ایم کیوایم کے خلاف لکھے اور بولے۔۔۔
پھر طے یہ ہوا کہ فرحان کی شہادت کولیکر ایک بھرپور مہم چلائی جائے اور ایم کیوایم کو ایکسپوز کیا جائے اور اس کے لئے کراچی کی بجائے ان علاقوں کا انتخاب کیا گیا جہاں ایم کیوایم کا اثرورسوخ کم ہے۔۔
سب سے پہلا مسئلہ تو فرحان آصف کی تصاویر کا پوسٹر بنوانا تھا کہ یہ رسک کوئی نہیں لے گا، بہرحال کسی طرح یہ معاملہ بھی حل ہوا۔ حیدرآباد میں بننے والی ٹیم کا میں بھی حصہ تھا ہر سیاستدان ہر بڑے اخباری لکھاری اور اخباری دفتر پر دستک دی لیکن اس وقت کون مرد کا بچہ ہوتا جو “بھائی لوگوں” کے لئے ایک لفظ بھی بولتا۔ پھر یہ طے پوا کہ اس رنگین پوسٹر کو شہرکی اہم شاہراہوں پر لگایا جائے اور یہ کام کرنا ایسا تھا کہ جیسا اپنی موت کو خود ایم کیوایم کے حوالے کرنا کہ پھر جیسے چاہئیں وہ ہماری روح قبض کرے۔ اس کام کو سرانجام دینے کے لئے تین دن اور دو راتیں گھر سے باہر گزارنا پڑی، ساری رات جاگتے اور فجر سے آدھا گھنٹہ پہلے پوسٹر لگانے نکلتے، اور ایک وقت میں 5 یا 6 سے زیادہ نا لگا پاتے، فجر سے پہلے کے وقت کا انتخاب اس لئے کیا کہ ایم کیو ایم کے لڑکے چوک چوراہوں اپنے یونٹ اور سیکٹر آفسز کے باپر ساری رات بیٹھتے تھے اور فجر سے تھوڑا پہلے اپنی “بھائی گیری” کی دوکان بند کرتے تھے۔۔۔
تین دن بعد گھر آنے پر معلوم ہوا کہ گھر میں کسی “سبزواری” کا فون آیا تھا اور اس نے ابو کو “اپنے روایتی نرم لہجے” میں کہا تھا کہ “آپ کا ایک ہی بیٹا ہے اور کس قسم کے کام کررہا ہے، اسے سمجھائیں” ہمارے ابا بھی تو ہمارے ہی ابا ہیں، جواب دیا کہ “کالج یونیورسٹی کے جھگڑے وہاں تک ہی رکھیں گھر تک معاملات نا لائیں ورنہ میں بھی قائمخانی ہوں”۔۔۔۔
قصہ مختصر یہ کہ فاروق ستار آج ایک خوش قسمت انسان ہیں کہ ان کے سننے والا کوئی ڈی جی رینجرز بھی ہے، ان کے کارکن کی تشدد زدہ لاش دکھانے والا سوشل میڈیا بھی ہے، ان کے جنازوں کی کوریج کرنے والا میڈیا اور ہسپتال سے ایدھی سینٹر، ایدھی سینٹر سے نمائش اور نمائش سے شہداء قبرستان تک دوڑتی ڈٰی ایس این جیز بھی ہیں۔ فاروق بھائی کو دلاسے دینے والے اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف بولنے والے اینکرز بھی ہیں۔۔۔۔ ورنہ میں تو این ای ڈی یونیورسٹی کے کے اس ہونہار طالبعلم کو بھی جانتا ہوں کہ جسے 2004 میں رینجرز کی موجوگی میں ایم کیوایم والے “مار” کر چھوڑ گئے تھے، وہ تو اللہ نے اس کے لئے سانسیں طے کی تھیں کی وہ بچ گیا اور پھر اس انجنیئر نے اپنے آپ کو ریجنرز کی موجودگی میں “نامعلوم” افراد کے ہاتھوں موت کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھا تو ان اداروں کے لئے اس کے دل میں آگ جلی کہ جو ایک ڈرون حملے سے ہی بجھی۔ nآج ایم کیوایم اور فاروق ستار اپنی لگائی ہوئی فصل کاٹنے کے علاوہ کچھ نہں کررہے، مجھے امید ہے کہ ان کے “شہید” ہونے والے کارکن کی نماز جنازہ پڑھتے ہوئے انہیں حقیقی کے کارکنان کو قتل کرکے ان کے سینے پر جئے الطاف لکھنا بھی یاد آرہا ہوگا، انہیں یہ یاد آرہا ہوگا کہ یوسف پلازہ میں ان کے عقوبت خانوں پر لگے خون کے چھینٹوں کا ڈی این اے نا جانے کتنے فرحان آصف، لقمان بیگ، اسلم مجاہد کا پتہ دے گا۔۔۔ nپھلیلی نہر کے ساتھ احمد مظہور کے قتل اور سمیع قائمخانی کو زخمی کرنے کا پلان بنانے والا شخص آج بھی ایم کیوایم کے میڈیا سیل کا اہم ممبر اور مستقبل کا ایم پی اے صحافیوں کو فون کرتے ہوئے اسے نا جانے ہسپتال میں پڑے کتنے ہی احمد مظہور یاد آرہے ہونگے، لیکن یہ لوگ بدقسمت ترین خوش قسمت ہیں کہ آج قدرت کے علاوہ سب فاروق بھائی اور ایم کیوایم کےساتھ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔n(منقول)n·

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.