ہر بھارتی فلم میں پاکستان کی نمائندگی ایک لڑکی کرتی ہے ۔۔ فینٹم میں تو نام تک نواز تھا۔۔ وہ بھی لڑکی کا۔۔ اور ایک تھا ٹائگر میں ۔۔ بھی ایسا ہی رول کترینہ نے پلے کیا تھا۔۔ جس میں پاکستان سے مماثلت آئی ایس آئی کی شکل میں ہوتی ہے ۔۔ یا پھر کسی نام کے ذریعے ۔۔ مدعا سمجھ نہِیں آتے ۔ آخر میں دونوں ایک دوسرے کو پٹا لیتے ہیں ۔۔ اصل میں یہی کام سیاست دان کرتے ہیں ۔۔ سوال ایک ہے ۔۔ یار اگر تم کو لگتا ہے ۔ کہ پاکستان ایک لڑکی ہے ۔۔ چلو مان لیا۔۔ یعنی پاکستان سے انڈیا پیدا ہوا ہے ۔ چلو مان لیا۔۔ پاکستان عورت ہے ۔۔ یار اگر بنانا ہے تو اسکارلٹ جوہانسن بنا دیا کرو۔۔ ویسے بھی اکثر پاکستانی بیچارے بلیک وڈو ٹائپ ہی ہیں ۔لیکن صرف وڈو۔۔ یعنی بیوہ ۔۔ کم از کم عزت تو رہ جائے گی ۔۔ ہاں یہ الگ بات ہے ۔ کہ ہمارے نشریاتی اداروں اور فرشتوں کی اصل میں کیے گئے آپریشن پر بھی کچھ بنانے سے پھٹتی ہے ۔۔ یعنی وہ مشنز جو واقعی مین آئی ایس آئی نے پرفارم کئے وہ ہیں تو آن دا ریکارڈ ہی نا۔۔ ؟ کتابوں میں لکھے ہیں ۔۔ تو یاردشمن کے بچوں کو اس طرح بھی تو پڑھا سکتے ہو۔۔ یہ شکریہ پاکستان جیسے چھوٹے اور ٹچے پراجیکٹس پر پیسے لگا کر کیا فائدہ ۔۔ انڈیا کی اس میدان میں جتنی لش پش مار سکتے ہو۔۔ مارو۔۔ دشمنی کرنی ہے تو ایسے کرو۔۔ تامل ناڈو پر فلم بناو۔۔ ہیرو لو عرفان خان کو۔۔ مزا تو تب ہے نا جب ان کا ایکٹر ہماری فلم میں رول کرے ان کے خلاف یہ دشمنی نہیں مردانہ مقابلہ کہلاتا ہے ۔۔ یہ کیا کل بھوشن کو پکڑ لیا اور اس کے چکر میں ذکی ٹھک کیا۔۔ سہی ہے یہ میدان بھِی ۔۔رکھو۔۔ خون بہائے بغیر تو بنیادیں مضبوط نہیں ہوتی مان لیا۔۔ لیکن جو محاذ آسانی سے کھول کر ختم کیا جاسکے اور جس کا فائدہ دور رس ہو۔۔ آنے والے نسلوں تک ہو۔۔ وہ زیادہ اچھا ہے یا بس ایجںٹ پکڑ کر ٹھوکنا۔۔

اترك رد