پوسٹ – 2016-05-11

“جماعتی” کا جہاں اور ہے “نظامی” کا جہاں اورnnکاش آج میں ڈپی تبدیل کرکے حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف کچھ کر سکتا۔۔ کاش اکہتر میں یہ چھاترو شنگھو والے بھی صرف لال فلسطینی رومال بندھ کر اتوار کی پکنک پارٹیز کے لیے نمائش تاتبت سنٹر پوری چوڑی سڑک کو فارم ہاوس میں تبدیل کر دیتے ۔۔ اور رات کو فیس بک چیک پر کہا کرتے ۔۔had fun with my tehreeki buddies in rally hash tag super sundays..nnکاش وہ لوگ بھی صرف قال اللہ قال اللہ کرتے ۔۔اور عمل میں زیرو رہتے ۔ کاش وہ بھی راہ ٹی وی کے نام پر۔۔ اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے بجائے صرف تحریکی چونا بیچا کرتے ۔۔ کاش وہ لوگ بھی بنگالیوں کی ایم کیو ایم یعنی مکتی باہنی کے خلاف صرف احتجاج ریکارڈ کروایا کرتے ۔۔ کاش یہ نظامی صاحب کے امیر سراج صاحب ہوتے ۔۔ جو صرف “ٹوپی ٹیڑھی کیوں ہے” والے چٹکلے چھوڑا کرتے ۔۔ کاش ان میں کوئی منور حسن نہ ہوتا۔ کاش ان میں کوئی آغا جان نہ ہوتے ۔۔ کاش وہ بھی کوالٹی کے بجائے تعداد پر فوکس کرتے۔۔ کاش بنگلہ دیشی جماعتی بھی صرف ۔۔ اخباروں ، کالموں ، اور فیس بک پر ڈسکشن کو disgust کی حد تک کیا کرتے ۔۔ اور عمل میں وہ لوگ بھی بقول pk “لل” ہوتے ۔۔ کاش وہ لوگ بھی صرف اپنی آرمی پر فوکس کیا کرتے ، تنقید کیا کرتے ۔۔اور جمہوریت کو چاٹا کرتے ۔۔ کاش وہ لوگ بھی کراچی میں صرف آرمی کے “بزنسز” پر بات کر کے واہ واہ وصول کیا کرتے ۔۔ اور ایم کیوایم کے سامنے بھیگی بلی بن کر شہید ہوجایا کرتے ۔۔۔ کاش وہ لوگ بھی سوشل میڈیا سمٹ کے نام پر ایک دوسرے کی انا میں پھونکیں مارا کرتے ۔۔ کاش اے کاش وہ لوگ بھی صرف رٹا رٹا یا سبق پڑھ کر دوسروں کو کافر ، بدکار ، فاسق قرار دیا کرتے ۔۔ تو کم از کم مولوی اور مذہب کی کیٹیگری میں آکر بچ جاتے ۔۔ کاش وہ لوگ بھی ہمارے دیسی “کریڈٹ کےشوقین” جماعتیوں کی طرح امتیوں کے لاو لشکر کے بیچ میں اونچا عمامہ اور شملہ سہلایا کرتے ۔۔ کاش وہ سید کے اس لاہوری لعل مودودی کی پیروی نہ کرتے ۔ کاش وہ لوگ کھل کر باتیں نہ کرتے ۔۔ کاش وہ لوگ بھی امیرصاحب اور ناظم صاحبان کی میٹھی مجبوریوں کا شربت پیا کرتے وہ بھی نظم و ضبط کا لیموں نچوڑ کر۔۔ ۔ تو یوں اسلام اور پاکستان کے اجنبی قرار نہ پاتے ۔۔ کاش وہ لوگ بھی مردہ پرست ہوتے ۔۔ کاش وہ لوگ بھی وقت گزرنے کے بعد اپنے منہ پر مکا مارا کرتے ۔۔ کاش وہ لوگ بھی دوسری گلی اور چوتھے محلے کا درد چھوڑ کر دوسرے ملکوں کا درد زیادہ محسوس کرتے ۔۔ اور اپنے ملک میں محض “مذہبی ” رہتے ۔۔ تو بچت رہتی ۔۔ کاش وہ لوگ شہدا کے بجائے غازی ہونے پر فوکس کرتے ۔۔ کہ شہید تو ستر بندوں کو جنت میں لے جاتا ہے ۔۔ لیکن غازی ۔۔؟ جنگ کے بعد کتنے لوگوں کی دنیا و آخرت جنت بنانے کا سبب بنتا ہے ۔۔ کاش وہ لوگ بھی مکتی باہنی سے جھگڑے میں مار کھا کر بعد میں اپنے شہیدوں کو بیچا کرتے ۔۔ تعزیتی ریفرینس کے نام پر ۔۔ کاش ان کو عقل نہ ہوتی کہ کراچی اور ڈھاکہ ایک نہیں ہے ۔۔ کاش وہ لوگ بھی کچھ نیا کرنے کے بجاے ۔۔ کسی فاروق ستار کے مقابلے میں کسی عبدالستار افغانی کا ڈنکا نہ پیٹتے رہتے ۔۔ کاش وہ لوگ لوکل جماعتیوں کی طرح تحریک پر کام کرتے چاہے معاشرہ تعصب سے بدبو دار ہوجائے ۔۔ اور پھر بعد میں پوچھا کرتے ہم الیکشن کیوں ہارتے ہیں ۔۔ ہاں کاش وہ بھی ہارتے اور کہا کرتے ہمیں نتائج کی پروا نہیں ۔۔ کاش کہ وہ بائیکاٹ اور واک آوٹ کے بجائے ۔۔ جڑ پکڑ کر اس پر کام نہ کرے کاش ان کے بھی قول و فعل میں تضا د ہوتا ۔۔ کاش ان کی معاشرتی اقدار منافقت پر مبنی ہوتی۔۔ کاش وہ لوگ مذہب کو اخلاق میں جانچتے ۔ کاش وہ لوگ زعم تقوی کا شکار ہو کر اپنے بلوں میں گھسے رہتے اور پھر پوچھتے ہم الیکشن کیوں ہارتے ہیں ۔لیکن یہ کاش اس وقت کاش نہ ہوتے ۔۔ اگر ان کی تنظیمی رگوں میں پرانا ٹھنڈا خون جم کر لوتھڑے نہ بن جاتا۔۔ اور گرم خون بزدلی کو مصلحت کا نام دے کر ، بے غیرتی کو “ابھی وقت نہیں آیا” کہہ کر منہ لپیٹ کر نہ سوجاتا ۔۔nn اگر نظامی ، نیازی ، اور جماعتی کا جہاں ایک ہوتا۔۔ یہاں تو ۔۔ نیازی کا جہاں اور ۔ نظامی کا اور۔۔ اور جماعتی کا اور۔۔ خیر ہے ۔۔ شہید بیچنا ا تو ان کی پرانی خصلت ہے کبھی واصف عزیز۔ تو کبھی عزیز جان مطیع نظامی ۔۔ nnوہ “شکست خوردہ “رفیق” جو پلا ہو” ناظمین ” میں
اُسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ رسم ِ “جانبازی”n”ریلی” ہے دونوں کی اسی ایک “ماحول ” میںn”جماعتی” کا جہاں اور ہے “نظامی” کا جہاں اور

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.