ابھی واٹس ایپ گروپ پر ایک دوست نے ایک تصویر شئیر کروائی جو ایک لوکل پروڈکٹ کا اشتہار تھا۔۔ میری شرم و حیا۔۔ جو تھوڑی بہت بچی ہے ۔۔ مطلب آج سے پہلے لگتا تھا کہ بالکل ہی فارغ ہوگئی ہے ۔۔ لیکن اندازہ ہوا اس پکچر کو دیکھنے یعنی اس اشتہار کو پڑھنے کے بعد۔۔ کہ میں تو ایک چھوٹا سا طارق جمیل صاحب ہوں یعنی جو بغیرتیاں میں کرتا ہوں کم از کم اس کو فون نمبر ڈال کر بیچ نہیں رہا۔۔ ۔۔ یہ لیجئے پڑھئے ۔۔ اس اشتہار کی کچھ لائنزnn”ایک پڑیا ۔۔ بنائے گڑیا
چھپائے آپ کے عیب “nnخون نکلنے اور سوزش پڑنے کی گارنٹی nنیچے ایک فون نمبر دیا تھا ٹیلی نار کا۔۔ nnباقی اشہار اس لیے پوسٹ نہیں کر رہا کہ وہ جو اوپر ایک تھوڑِی مبہم سی شرم وحیا کی لالی ہے ۔۔ وہ مجبور کر رہی ہے کہ میں اس شخص کا اشتہار اگے نا چلاوں ورنہ ایڈٹ کرے کے نمبر چھپا کر بھی آگے پاس کر سکتا تھا۔۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ تصویر پوسٹ کرنے سے دھیان فورا جاتا ہے پوسٹ پر پھر لوگ اندھا دھنڈ شئیرنگ کرتے ہیں ۔۔ طویل پوسٹس پڑھنے والے عموما سنجیدہ افراد ہوتے ہیں جو پڑھتے ہیں وہ کچھ کچھ سمجھ لیتے ہیں اور مقصد تک پہنچنے کی کم از کم کوشش کرلیتےہیں پھر ان کا شئیر کیا ہوا پڑھتے بھی وہی ہیں جو پڑھنے والے ہوتے ہیں نہ کہ تصویر دیکھ کر سستی محنت کرکے لائک کردینے والے ۔۔ جو کہ میں نہیں چاہتا۔۔ صرف مقصد لاش کا تھوڑا سا چہرہ دکھانا ہے باقی اشتہار کی بدبو خود بتا دے گی کہ ماشااللہ ہم کس لیول کے کنجر ہو چکے ہیں ۔۔ nnکچھ بھِی ہے بھائی جس نے بھی لکھا ہےیہ اشتہار۔ یہ جملہ کمال لایا ہے ۔۔ ایک پڑیا بنائے گڑیا۔۔
پوسٹ – 2016-05-15
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد