Tech News, Latest technology news daily, new best tech gadgets reviews which include mobiles, tablets, laptops, video games. Being a tech news site we cover.
Gadgets
جب آپ لفظوں کو انسان سمجھ کر جملوں میں استعمال کریں تب انسان دوست ادب جنم لیتا ہے ۔ اور لکھائی میں نکھار بھی آتا ہے ۔۔مثلا "خوشی" لفظ ہے ۔ ہم اکثر کہتےہیں "خوشگوارحیرت" اگر اس کو یوں لکھیں ۔۔ کہ خوشی حیرت سے اس کا منہ تکنے لگی ۔۔ یا پھر ۔ خوشی اس کے چہرے پر چست قمیض پہنے قلابازیاں کھانے لگی ۔۔اور حیرت کے گڑھے میں جا گری ۔۔ مطلب آپ نے خوشی کو ایک لڑکی بنا کر استعمال کیا۔۔ جس طرح چاہا استعمال کیا۔۔مطلب بھی پورا ہوا اور سمجھ بھی آگیا۔ ایسے ہی آپ دوسرے لفظوں سے کھیل سکتے ہیں ۔۔ یعنی مثلا۔۔ اس کے کپڑے تھے یا غم کی آبشار ۔۔یعنی اس بار آپ نے "غم" کے لفظ کو کپڑے کی طرح استعمال کیا۔۔ nبس ایک بات کا دھیان رکھیے گاجس دن آپ کو احساس ہوا کہ آپ مصنف بن گئے ۔۔ اس دن آپ کے لفظ آپ سے غداری کردیں گے ۔۔ آپ کو اکیلا چھوڑ دیں گے ۔۔ کیوں ؟اس لیے کہ جب انسان سمجھ لیتا ہے کہ وہ کچھ بن گیا۔۔ تو بس بکھرنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے ۔۔ چوٹی پر پہنچ کر ڈھلوان کا آپشن ہی بچتا ہے نا۔۔ آگے آپ کی مرضی ہے
ویسے یہ لوگ رینجرز کے مارنے کوٹنے پر سوال اٹھاتے ہیں لیکن پرائیوٹ میسجز میں مجھے تو یہ پڑھنے کو ملا ہے nn"عورتوں کی تشریف ذرا زیادہ گرم تھی ۔۔ آگے آگے ہو رہی تھیں رینجرز کے سامنے "nnالطافی مہاجروں کی بجانے کا جزبہ دل میں بھی موجزن ہو تو سامنے والا اختلاف کے باوجود دوست ہے ۔۔ پار کرو ان کو واہگہ بارڈر سے واپس ۔۔ جو پاکستان کا کھاتے ہوئے پاکستان میں رہتے ہوئے پاکستان کے نہیں وہ انسان نہیں ۔۔آپ فوج کو برا بھلا کہو چلتا ہے ، آپ حکومت کی ماں بہن کرو چلتا ہے آپ اداروں کے خلاف بھی بول لو خیر ہوگئی لیکن جب آپ نے ریاست کو مردہ باد کہدیا جو ایک بار نہیں بار بار کہا ہے تو ریاست کے بیٹے چاہئے ناخلف ہی سہی وہ اپ کی بجائیں گے ۔۔ یہ الطافی مہاجر ابن علقمی کے نطفے ہیں یہ یونانیوں کے ٹروجن ہارس ہیں اور ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے سہی ہو رہا ہے ۔۔ ماں کو مردہ باد کہنے والے اور والیوں کی میں کیوں عزت کروں ؟
پھر دوبارہ لکھنے بیٹھا ۔۔ کیا مطلب ؟ ارے قلم کو اپنے ہاتھ میں بڑے پیار سے لے کر لکھنے بیٹھا ۔۔ الفاظ غداری کر گئے کہنے لگے تو مطلبی ہے ، جھوٹا ہے فریبی ہے مکار ہے دغا باز ہے ۔۔، جا ہم نہیں بولتے ۔۔ جا ہم نہیں آتے ۔۔ اب لکھ کر دکھا ۔۔ اب کہہ کر دکھا ۔۔ کہنے لگا الفاظ سے اب کسی کو دکھانے کے لیے کیا لکھنا ۔ اور لکھ کر کیا دکھانا ۔ جو دکھایا جائے وہ لکھا جاتا نہیں اور جو دکھ جاتا ہے اس کے لیے لکھنے کی ضرورت کاہے ؟ الفاظ کی بات میں بھی جان تھی ۔۔ تو قلم کو الٹا کر کے بڑے آرام سے کان میں گھسایا ۔۔ جیسے دماغ کا راستہ ٹٹول رہا ہو ۔۔ قلم اندر جا کر چلایا اور بولا ۔۔ اوہ بھائی کہاں کنویں میں گھسا ددیا۔۔ قلم کی آواز اس کے اپنے الفاظ سے ٹکرانے لگی ۔۔ وہ ہنسے لگا ہسٹریائی ہنسی ہنسنے لگا کان میں شور ہوا دماغ جو پائے نہاری کھا کر اداس بیٹھا تھا ۔۔ سر کو سوچ کی ٹانگوں میں دیئے گم صم تھا ہڑبڑا اٹھا ۔۔ دماغ کی گلی میں ایک آہ سی گونجی اور چکرانے لگی اب الفاظ باہر ناچ رہے تھے ۔۔ قلم کان میں منہ دئے چیخ رہا تھا اور دماغ سوچ کی ٹانگوں میں سر دئے تھا ۔۔ خیال کا زوال تو یہی تھا اب تھا تو تھا۔۔ کیا کرتا۔۔ مرتا کیا نہ کرتا اس نے ایک کتاب چنی ۔۔ چھٹی ہوئی ۔ پھٹی ہوئی اور پھر چھٹی ہوئی ان الفاظ کی ۔۔ اس نے الفاظ کو طلاق دی اور عصمت چغتائی کی گود میں بیٹھ گیا کہنے لگا اماں جی یہ تو بتاو یہ جو اتنا لکھتی ہو یہ کاہے کرتی ہو ۔۔ عصمت ہنستی رہی الفاظ اڑتے رہے قلم چیختا رہا اور دماغ ۔۔ دماغ تو عصمت کی گود میں یوں سویا گویا نرم گھاس کے نیچے پانی سرسرار رہا ہو۔۔ خاموش ، ٹھنڈا اور مکمل ۔۔
ویب سائٹ بنانے والوں کی کانٹیکٹ لسٹ میں نام کس طرح کے ہوتے ہیںnnآصف پی ایچ پی nعمار لوگو nکاشف ورڈ پریس
سلمان جوملہ nاسماعیل ڈومین nوقاص اے ایس پی nارشد ڈیزائن nکامی ویب nاشعر سی ایس ایس
خون عطیہ کو دینے کے بجائے عطیہ کردیا کرو ۔۔عطیہ کو کردیا کرو نہیں لکھا ۔ خون کو عطیہ کردیا کرو ۔۔
ایک جاننے والے صاحب کا کہنا ہے کہ ان کو زنا سے چڑ ہے کہتے ہیں اس کی وجہ مذہبی نہیں بلکہ ایک ہی کام ہے جو انسان اپنی منکوحہ سے کرتا ہے ایک ہی لذت ۔۔۔ اور ان کو دوسری شادی سے بھی چڑ ہے کہتے ہیں ۔۔۔ پہلی کم ہے کہ دوسری کو بھی پال لوں ۔۔۔ میں کیا پالنے کے لئے بنا ہوں ۔۔۔ رات رات بھر تاش کھیلو ، چبوترے پر بیٹھو ، دوستوں کے ساتھ کھانے کھاؤ یہ کیا ایک ایک منٹ کا حساب دو ایک کم ہے کہ دوسری کو جواب دو ۔۔۔ ایک دفعہ ایک دس سال پہلے گرل فرینڈ بنائی آزمائشی طور پر اس نے کہا کال کیوں نہیں اٹھائی ؟ میسیج کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ بس اس کو آخری میسیج ایک گالی کی شکل میں دیا پھر کبھی رابطہ نہیں ہوا ۔۔۔۔
ان کا کہنا ہے کہ لوگ جو شادی کا مطلب صرف لذت یا ایک ہی کام سمجھتے ہیں ان کے لیے یہ پیغام ہے کہ شادی اور لذت کی مثال گرین ٹی کی سی ہے چاہے لیمن ملا کر پیو یا بغیر لیمن کے ۔۔۔۔ لیمن ملا کر پیو تو چربی جلدی گھلتی ہے اور لیمن کے بغیر چربی دیر سے گھلے کی ۔۔۔ لیکن گھلے کی دونوں صورتوں میں ..nnنوٹ: اللہ کی قسم وہ جاننے والا میں خود نہیں ہوں۔
ایک قلم کا مکالمہ nnمیں خود اس کے رحم و کرم کا محتاج ہوں جس کا نام ہی “المصور” ہے ۔۔ تخلیق کار۔ بہنے دے پھر اس کے رنگوں میں ۔۔ اس کے جلووں میں ۔ جس کا نام ہی تخلیق کار ہوگا۔۔ وہ کیسے موضوعات کی کمی ہونے دے گا۔ شرط بس یہی ہے ۔۔ سوچنا بھی مت کہ تم لکھاری ہو ۔۔ ابے تم بھکاری ہو ۔۔ الفاظ کے اور میں تمھارا کشکول ۔ وہ دے گا تو کشکول بھرے گا لفظ سکوں کی مانند چھلکیں گے ۔۔ اس سے ناتا ٹوٹا تو بس بھائی ۔۔ پھر میں آزار بند ڈالنے کے کام آوں گا اور تو کھولنے کے ۔۔ جانور اور انسان میں کیا فرق ہے ؟ قلم ، لفظ ، شعور اور جبلت کا۔۔ یہی تو آدمی اور انسان میں فرق دلاتا ہے ۔۔ خیر لکھنا میرا کام ہے ۔
دنیاوی قانون کی اوقات
ریمنڈ ڈیوس بندہ مارے تو اسے امریکہ کے حوالے کردو
اور کوئی مسلمان کسی کوٹھوک دے تو اسے جائے وقوعہ پر مار گراو nافغانستان کے سفیر کو ہر اخلاق سے بالا تر ہو کر حوالے کردو اس کی تو اسلام میں اجازت ہے ؟
کیا اشتعال میں آکر قتل اور بلا اشتعال قتل دونوں کی سزا ایک ہی اور کیا اس ترکی نوجوان کو شہید کرنا ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں نہیں آتا ۔۔ nnیعنی اگر اس کے ساتھ جو ہوا وہ سہی تھا تو اج کے بعد جس کے پاس طاقت ہے وہ کمزور کو بغیر قانون کے ٹھوکنا شروع کردے ۔۔ ؟ nاب ان بہن کے ک_وں کا قانون کیا کہتا ہے جو موم بتیاں اپنی _انڈ میں لے کر سول سوسائٹی کا مجرا کرتے ہیں ؟
لبرلز کے ساتھ وہ ہونا چاہئے جو چنگیز نے بغداد کے ساتھ کیا تھا ان کے ساتھ انصاف کے تقاضے ؟ _ن میرا ۔۔ سارا سال اسلام کے خلاف بھونکتے ہیں شریعت کی پھبتی اڑاتے ہیں لیکن جب کوئی ریمنڈ ڈِیوس اور اس روسی سفیر جیسا کیس آجائے تو ماں کے _ن دلیلں بھی مذہب سے اکھاڑ کر لاتے ہیں ۔۔ کوئی نہیں ابھی چار پانچ اور لاشیں گریں گی تب جا کر یہ مزید ننگے ہوں گے
داستان عجیب کا ایک طرہ پھر سے لہرایا nآج پھر سے وہ کوچہ قتل میں ازل بن کر آیاnnمحبتیں شرما گئیں جسے نقاب پہنے دیکھ کر
وہ شخص جھرمٹ سے حسینوں کے نکل آیاnnوہ جو کہتا تھا کیسی ہوتی ہے حکومت عشق
پہنے ہوئے وہ بیڑیاں کرب کی خود سے آیا nnاس داستان کا انجام نہ پوچھ مجھ سے nکہ سودا یہ مہنگا ہے پر سر میں سمایا ہے