ایک پیر و مرشد صاحب نے عورت کی ساری نفسیات کو ایک جملے میں بند کردیا ۔nn”دیکھ بھائی جس طرح عورتیں یہ کہتی پھرتی ہیں کہ دنیا کے سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں ۔۔ تو میری جان دنیا کی ساری عورتیں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں ۔۔ nnحاصل گفتگو یہ نکلا کہ اس مخلوق کو جاننا ضروری ہے ۔۔ سمجھنا نہیں ۔۔ عورت کو Objectify کرو ، اس کو جانو ، اس کو استعمال کرو اور اس کو اس کی ناشکری کی قیمت ہر مہینے تنخواہ کی صورت دے دیا کرو۔۔ استعمال سے میرا مطلب صرف “وہ” استعمال نہیں ۔۔ اس سے ایک فائدہ تو بہرحال ہوگا۔۔ کم از کم آپ جوانی میں دل کے دورے سے محفوظ رہو گے ۔۔ایک عورت ہی کے الفاظ ہیں جو اس نے یوم حقوق خواتین پر دئے تھے ۔ملاحطہ فرمائیں nn”جس عورت کے معدے اور شرمگاہ کے حقوق وقت پر ادا کر دئے جائیں ، اس کے لیے سال کا ہر دن وومن ڈے ہے”nnمورال : یہ سب فارمولے ان مردوں پر اپلائی ہوتے ہیں جو خود بھی upright ہوں ۔۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ شراب کے نشے میں عورت کی بھاری بھرکم طریقے سے بجائیں اور پھر کہیں کہ مرد قوام ہے ۔۔ نہیں نہیں ۔۔ ہرگز نہیں ۔۔

اترك رد