پوسٹ – 2016-07-01

یہ زندگی سوال تھی جواب مانگنے لگے nفرشتے آکے خواب میں حساب مانگنے لگے nnمیں جگنووں کو منہ لگا کے الجھنوں میں پڑ گیا
یہ بے وقوف مجھ سے آفتاب مانگنے لگے ۔۔nnادھر کیا کرم کسی پہ اور ادھر جتا دیا nنماز پڑھ کے آئے اور شراب مانگنے لگے nnسخن وروں نے خود بنادیا سخن کو اک مذاق
ذرا سی داد کیا ملی، خطاب مانگنے لگے nn- راحت اندوری

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.