یہ برف راتیں بھی بن کر ابھی دھواں اڑ جائیں nوہ اک لحاف میں اوڑھوں تو سردیاں اڑ جائیں nnہوائیں باز کہاں آتی ہیں شرارت سے nسروں پہ ہاتھ نہ رکھیں تو پگڑیاں اڑ جائیں nnبہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر nجو مری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑجائیں
یہ برف راتیں بھی بن کر ابھی دھواں اڑ جائیں nوہ اک لحاف میں اوڑھوں تو سردیاں اڑ جائیں nnہوائیں باز کہاں آتی ہیں شرارت سے nسروں پہ ہاتھ نہ رکھیں تو پگڑیاں اڑ جائیں nnبہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر nجو مری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑجائیں
اترك رد