اپنی مرضی سے ملک سے باہر جا کر نوکریاں کرنے والوں کے نام :nnبھائی ہم نے نہیں کہا تھا کہ زیادہ پیسوں اور اچھی بچی کے چکر میں باہر جا کر نوکری کرو nچلے ہی گئے ہو تو یہ “پردیس میں عید” جیسی مظلومیت نہ جھاڑو۔۔ اتنا مسئلہ ہے ۔۔ تو کراچی میں نوکریاں بہت۔۔ بس مسئلہ یہ ہے کہ ڈالرز ، ریال ، درہم ، خاندانی اسٹیٹس ، ہمارا لڑکا باہر نوکری کرتا ہے ، یہ والے چسکے پورے نہیں ہوں گے ۔۔ تو اس عید پر یہ آنسو بہانا بند کرو ابھِی تک جو تجربہ حاصل کیا ہے ۔۔ اس کو استعمال کرو پاکستان میں نئی کمپنیاں کھولو یا پھر واپس آکر بندے دے پتر بن کر نوکری کرو یہیں پر تاکہ کہ “ماں بہن بیوی بیٹی کے ہاتھ سوکھی روٹی اور باہر کے مرغ مسلم” جیسی کہانیوں سے ہمیں نجات ملے ۔۔ nnنوٹ: میں بہت ناکام اور جیلیس آدمی ہوں اس لیے یہ پوسٹ کی ۔۔ لول

اترك رد