اس بار چاند کی ویران پہاڑیوں پر ایک چہرہ ابھرتا دیکھا گیا ۔۔ ویسے تو وہ ہیولا سا تھا خدو خال واضح نہیں تھے لیکن رویت والوں نے ذرا زور لگا کر دیکھا تو اس ہیولے نے ایک جانب انگلی کی ۔۔ یعنی اشارہ کیا۔۔ چاند کے ایک اونچے ٹیلے پر ۔۔ شکریہ پوپلزئی شریف جگمگا رہا تھا ۔ چرخا کاتنے والی مائی کو چاند کی ویرانیوں میں فحاشی پھیلانے کے جرم میں زدوکوب کر کے چاند سے الٹا لٹکا دیا گیا تھا ۔۔ اب چونکہ چاند سے صرف تین چیزیں نظر آتی ہیں ۔۔ دیوار چین ، جی ایچ کیو اور تیسری میں بھول گیا ۔۔ nچرخا کاتنے والی بڑھیا نے “وے پوپلزئی تیرا بیڑا تر جائے ” کی ہانک لگائی ۔ تو اسے لگا جی ایچ کیو کے باہر کھڑا فوجی منہ اٹھا کر اوپر دیکھ رہا تھا بڑھیا نے ہاتھ ہلایا بلکہ جھلایا کیوں کہ وہ الٹی لٹکی ہوئی تھی فوجی نے اپنی بندوق سے جی ایچ کیو کی دیوار کی طرف اشارہ کیا ۔۔ وہاں لکھا تھا ” منصف ہو تو حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے ” ۔ یہ پڑھ کر بڑھیا نے ہوا میں پینگ سی لیتے ہوئے ایک سلیوٹ سا مارا اور زور سے چلائی ۔۔۔nnشکریہ راحیل شریف ۔

اترك رد