پوسٹ – 2016-07-09

بچپن کی چوریوں اور کمینگیوں کا ذکر ہو رہہا تھا ، ایک صاحب کہنے لگے ، ابے یار کیا بتاوں ایک بار بچپن میں پیسے چوری کئے ، اماں کو شک ہوگیا ، کہ یہ حرکت اسی نے کی ہے ۔۔شکل سے معصوم اور اندر سے ڈکیت یہی اولاد ہے میری ، خیر ان کی انوسٹیگیشن ہوئی تو بھائی صاحب ہمیشہ کی طرح مکر گئے ، اماں نے پیار سے کہا، تھوڑا سا ڈنڈا کیا، لیکن نہیں صاحب وہ مرد ہی کیا جو مان جائے ، وہ ظفر اقبال صاحب فرماتے ہیں نا nnجھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر nآدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے nnتو میرے ان صاحب کردار دوست نے مان کے نہ دیا ، خیر اماں نے پھر ایک نفسیاتی چال چلی اور کہا اچھا بیٹا بتا دو کہ تم نے کی ہے جھوٹ نہیں بولو میں کچھ نہیں کہوں گی وعدہ ، صاحب کردار جتنا بھی ہوشیار تھا لیکن تھا تو بچہ ہی۔۔ اماں کے اس نفسیاتی داو میں آگیا اور چوری قبول لی ، بس پھر کیا تھا۔ اماں نے اس چوری پر تو کچھ نہیں کیا لیکن پچھلے ایک دو کیس نکال کر جو چھتر پھیرے ہیں کہ اللہ خیر تے بیڑے پار۔۔ پھر بھائِ صاحب نے تہہیہ کرلیا کہ بابا یا تو چوری نہیں کرنی یا پھر سچ نہیں بولنا ۔، لول nnبندہ بھی آنلائن ہے نام بھِ لکھ سکتا ہوں لیکن یاد نہیں آرہا کہ اسن ے منع کیا تا کہ نام مینشن کروں یا نہیں اس لیے نہیں کر رہا ۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.