وہ بیچارہ اسکول لائف سے ہی لوزر تھا، پڑھائی میں دل نہیں لگتا، لڑکی اس سے سیٹ نہیں ہوتی اور تو اور اسکول یا کالج لائف میں کسی سے کوئی لڑکی سیٹ نہیں ہو پاتی تھی اور پھر جب کوئی لڑکا اس کو سیٹ کر لیتا تھا تو یہ ایکس عاشق اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے پائے جاتے تھے۔n”یار میں اس کی خوشی میں خوش ہوں” ۔۔ یہ بھی انہیں میں سے تھا لیکن نجانے ایسا کہتے ہوئے اس کا الٹا ہاتھ اپنی پتلون کی جیب میں دفن ہوجاتا، پھر دن گزرتے گئے ، یہ ایک ناکام شاگرد، ناکام بیٹا ، ناکام شوہر بلکہ شوہر کہاں سے جب بچی نہیں پٹ سکی ، اس کی اپنی بہنیں اوور ایج ہو کر شادی کے قابل ہی نہ رہیں اور یہ خواتین کے حقوق مانگتا رہا بس پھر ایک دن جوتیاں چٹخاتا فیس بک پر جا پہنچا اور آج ایک بہت بڑے لبرل پیج کا ایڈمن ہے جس کا کام بس تنقید کرنا ہے اور وہ بھی بےتکی ، کیوں کہ ظاہر ہے زمانے نے اس کی لی ، اب یہ زمانے کی لے گا۔ اور تو کچھ کر سکتا ہوتا تو آج ایڈمن نا ہوتا،

اترك رد