کراچی یونی ورسٹی کے “ماس کمیونی کیشن ” ڈیپارٹمنٹ کو پیار سے “ماس کوم” بھی کہا جاتا ہے ۔۔ پچھلے چند سالوں میں اس ڈی پارٹمنٹ کے تقریبا بیس سے پچیس لوگوں سے واسطہ پڑا ۔۔ یعنی مختلف بیچز ، مختلف معاملات اور مختلف ایشوز پر ۔۔ اور دیگ کے ہر ہر دانے نے اس بات کو ثابت کردیا کے کراچی یونی کے اس نام کو “ماس کمیونیکشن ” کو بدل کر n”مس کمیونیکشن” رکھ دینا چاہئے ۔۔ اور پیار سے اس کو “ماس کوم” کے بجائے ۔۔n”مس کوم” رکھ دینا چاہئے ۔۔ اب مجبوری اخلاقی نہیں ہے ۔ کیونکہ اپنا اخلاق کافی بداخلاق واقع ہوا ہے ۔۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں مقصد ذلیل کرنا نہیں ۔۔ بلکہ تحقیر کرنا ہے ۔۔ اس ڈیپارٹمنٹ کے ان لوگوں کی جو گفتگو میں بات کو سمجھنے سمجھانے کے بجائے جب تضاد واقع ہو تو یہ کہا کرتے ہیں ۔۔ کہ “یار سوری آپ کے میسجز نہیں پڑھے” گویا بغیر پڑھے جواب دیے جا رہا تھا۔۔ کاش مسئلہ ذاتی ہوتا کاش اے کاش ۔ ذاتیات پر اترنے کا ، اور ایسے لوگوں کو ذلیل کرنا منشا ہوتا۔۔ کاش ۔۔ تو پانچ چھ تو ٹیگ دیتا۔۔ اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ اس میں سے زیادہ تر مرد تھے ۔ لیکن کیا واقعی مرد اور مردانگی صبح اٹھر کر نیچے منہ کرنے کا نام ہے ؟ تو شاید وہ مرد ہی تھے ۔۔ لیکن اگر مرد ہو اور پھر بھی وہ بات کو کاٹ کاٹ کر مس کمیونی کیٹ کرے ۔ اور جب پوچھا جائے کہ بھائی کتنا پڑھے ہو تو وہ کہے ۔۔ کہ ماس کوم ۔۔ اوہ نہیں ۔۔ ایسے لوگ ماس کوم کو بھی “میس کوم” بولتے ہیں ۔۔تو یار قسم سے خیال آتا ہے کاش خودکشی حلال ہوتی ۔۔

اترك رد