پر وہ مہاجر جس کے دل میں رائی برابر بھی عصبیت یا الطاف یا ایم کیو ایم کی محبت ہے nوہ اپنی پوری قوم کو رگڑا دلواتا ہے ۔۔ یہاں پر بیوہ کے بین کے بجائے اپنی قوم کے لوگوں میں اور ان کے دماغوں میں لگی عصبیت کی دیمک صاف کرو اور پہلے یہ سوچ ذرا مڈل کلاس محلوں میں پھیلادو اور دیکھو کہ تمھاری اس میٹھی سپاری سے کیا لیاقت آباد ، لانڈھی کورنگی نائن زیرو کے اطراف کے گٹکا کھاتے ایم کیوایم کے مہاجر اور فیشنی برقعے پہن کر گھومتی مینا بازار کی مہاجر عورتیں (وہ جو الطاف بھائی پر سب قربان کرنے کو تیار رہتی ہیں ) کیا وہ تمھاری اس سوچ سے سہمت ہیں ۔۔ اور کیا کہ مہاجر کھل کر اپنی برات کا اظہار کریں تب ہی تلافی ممکن ہے ۔۔nnچھپ چھپ کر فیس بک پر یا پیٹ پیچھے الطاف یا ایم کیو ایم کے خلاف کچھ لکھ دینا کافی نہیں اب جتنا گند مہاجر عصبیت پھیلا چکی ہے وہ اب ایسے صاف نہیں ہونے والا کہ چار پوسٹس لکھ کر ایم کیوایم کے اعمال سے الگ تھلگ ہونے کا اظہار کر دیا۔۔ ڈبے میں گھی جتنا نیچے ہے انگلی اتنی ہی ٹیڑھی کرنی ہوگی ۔۔ ورنہ ڈبہ الٹ کر واپس انڈیا بھیجنے کے لیے بھی آپشن کھلا ہے ۔

اترك رد