سمجھ نہیں آتی مسئلہ کیا ہے ۔۔ جسے دیکھو ،، ییار عشق محبت کرتا پھرتا ہے ۔۔ ابے بھائی درحقیقت یہ ، خوار، رسک اور محنت ہے ۔۔ یہ باقی سب جو ہے نا ۔۔ صرف عمر کا تقاضا ہے ۔۔ اور خصوصا جو شادی شدہ غریب ہیں۔۔ ان کا گزارہ ایک سے اس لیے نہیں ہوتا کہ ان بیچاروں کو بھی پتا ہے کہ لڑکیاں بہت فارغ بیٹھی اوور ایج ہو رہی ہیں ۔۔ اور ظاہر ہے قباحت بھی کوئی نہیں کسی شرعی یا قانونی رشتے میں۔۔ اب جہاں تک بات ہے پیار کی۔۔ تو یاد رکھو یار۔ پیار سے زیادہ یہ گیم ذہنی ہم آہنگی ہوتا ہے ۔۔جو کسی سے کم اور کسی سے زیادہ ہوجاتی ۔۔ بس آپ کو الفا میل رہنا پڑے گا اور ویسا ہی ذمے دار بھی شادی نام ہے اچھا کھانا خوب بجانا کا۔۔عزت دینا اور لینا کا۔۔ باقی سب باتیں یا تو کتابی ہیں یا ایکتا کپور کا گیان ۔۔ مجبت جیسی fragile چیز سے زیادہ کوشش کریں کہ کمیونیکیشن مضبوط ہو ، بن کہے چیزیں سمجھی جائیں اور نہ سمجھی جائین ۔۔ تو سمجھا دی جائین ۔۔ یاد رکھو بھائی ۔۔ عورت کے دو حقوق پورے کردو ۔۔۔ سب سیٹ ، ایک پیٹ ۔۔ اور ایک۔۔ جی وہی ۔۔ باقی اللہ مالک ہے ۔ یہ رشتہ اللہ نے جتنا نازک کیا ہے ۔ اتنا ہی مضبوط۔۔ اور مضبوطی عزت سے آتی ہے ۔۔ لیکن عزت وہ نہیں جو مطلقہ یا فارغ عورتیں وومن ڈے پر مانگتی ہیں ۔۔ عزت بھی بھلا مانگے سے ملتی ہے ؟؟؟ عزت وہ جس میں احترام، ڈر ، لگاوٹ ، شدت، اور کچھ فاصلہ ہو ۔۔ یہ نہیں کہ بیاہ سے پہلے بیوی ٹائپ تھِ ار نکاح کے بعد والدہ محترمہ بن گئیں ۔۔ نہیں مطلب بچوں کی تو بننا ہی ہے ۔ لیکن بچوں کے والد صاحب کی بھی امی بن جائیں ۔۔ تب ہوتی ہے پرابلم موضوع اتنا لمبا ہے ۔۔ کہ کم از کم چار شادیوں کا ٹائم فریم بن جائے ۔۔لیکن تھوڑے کہے کو زیادہ سمجھیں ۔۔ لول یہ جو اوپر ہے وہ تھوڑا ہے ؟ لول ، چک ، چک چک ۔۔ آ پ بھی نہ ۔ کمال کرتے ہو ،ویسے۔۔

اترك رد