ایک صاحب کہتے ہیں ، ان کو بھی تو دیکھو کتنی ترقی کر رہے ہیں ۔۔ ہم ویسے کیوں نہیں ہو سکتے ، یا کب تک ہونگے ۔۔ دوسرے صاحب کہنے لگے ، جب آپ مخالف کو دشمن سمجھنا چھوڑ کر۔۔ مخالف کے بجائے ، منزل پر نظر جما لیں گے ، کیوں کہ موازنہ کرنے والوں کی منزل اکثر حسد کی گرد میں کھو جاتی ہے ، پتا ہی نہیں چلتا کہ کب رستہ کھوٹا اور جذبہ جھوٹا ہوگیا اور مخالف پھر اتنا قد آور بن کے سامنے آتا ہے کہ جو چیز پہلے ممکن کیا بلکہ بائیں ہاتھ کا کھیل لگتی تھی ۔۔ یعنی مخالف سے پہلے منزل تک پہنچنا۔۔ وہ اب سدرتہ ال منتھی بن چکی ہوتی ہے ۔ کیوں کہ دوران کوشش آُ کی نظر مخالف پر تھی ۔۔ منزل پر نہیں ۔۔ اسلیے کام کیجئے ، نہ کہ انگلی لول

اترك رد