پوسٹ – 2016-12-15

۷۴ میں ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں ایک دفعہ پھر یہ اٹھے اس کی وجہ یہ تھِی کہ قادیانی یہ سمجھتے تھے کہ انقلاب آنے والا ہے ہمارےایک ائیر چیف جنہوں نے مرزا کو باقاعدہ سلامی دی تھی مطلب یہ تک لیول آگیا تھا تو قادیانی یہ سمجھتے اب تو انقلاب آگیا ۔۔ بھٹو نے ان کو بلایا ان کے خلیفہ کو کہ آو بھئی مناظرہ کرو تو اس بحث کے دوران یحی بختیار)زیبا بختیار کے والد(ہمارے کمال کے دوستوں بلکہ بزرگ دوستوں میں سے تھے ۔۔ اللہ تعالی ان کو جنت نصیب کرے اٹارنی جنرل تھَے وہ انہوں نے بہت محنت کی اس پر ، مولانا شاہ احمد نوارنی ، مفتی محمود تھے ، پروفیسر غفوراحمد بھی شامل تھے ، مولانایوسف بنوری جو تھے ان کے زیر سربراہی میں ایک بہت بڑی ختم نبوت کی تحریک چلی اور بنوری صاحب اس کو ہیڈ کرتے تھے nاور وہ سارے کے سارے بشمول محمود اعظم فاروق بھی اس چھتری تلے مجتمع تھے یہ سب لوگ جو تھے انہوں نے اکٹھے موومنٹ چلائی یہ بحث اور مناظرے ہوئے nاس دوران بحث میں قادیانیوں نے فلسفیانہ الجھاو کی صورت حال پیدا کی آخر میں یحی بختیار صاحب نے ایک سوال کیا خلیفہ مرزا طاہر سے اور وہ سوال یہ تھا n”ا چھا ٹھیک ہے ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ تم کافر ہو یا نہیں nآپ یہ بتائیں کہ جو لوگ مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے تم ان کو کیا سمجھتے ہو”nانہوں نے کہا nاس نے کہا ہم ان کو کافر سمجھتے ہے nمرزا نے تو یہاں تک لکھا ہے نا کہ وہ کنجریوں کی اولاد ہیں ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بھٹو ایک بہادر لیڈر تھا اللہ نے اس سے کام لیا nn#oryaMaqboolJan

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.