قانونی طور پر بنا ہوا منسٹر جیو والوں کی شلواریں یہ کہہ کر ڈھیلی کردیتا ہے کہ n”میں ذولفقار مرزا سٹنگ منسٹر یہ کہتا ہے ۔۔ کہ ولی بابر کا قتل ایم کیو ایم کے سر ہے “nیہ تھا قانون ۔۔ یہ تھے اصول ۔۔ کہ جس منسٹر کے نیچے ساری ایجنسیاں ہوتی ہیں ۔۔ قانونا۔ وہ میڈیا پر کہتا ہے کہ میں حلفیہ کہہ رہا ہوں ۔ جیو والے “اتنے دن گزر گئے ” کا منجن بیچتے رہے ۔۔ لیکن کیا انہوں نے اس اصول اور قانون کی بنیاد پر کچھ کیا ؟ جب بول بند کروانے کی باری آتی ہے تو سب دیکھتے ہیں کہ راتوں رات کیا ہوا ۔۔ وہی جیو نو گھنٹے تک آئی سی آئی کے ڈی جی کی تصویر کو رو رو کر کہتا ہے کہ حامد میر کو گولیاں فوجیوں نے مروائیں ۔۔ مان لی ؟ تو ؟ کیا ہو ا؟؟ تم لوگوں نے پھر کیا کیا اس کے خلاف سوائے الٹی کرنے کے ۔۔ ؟ یہ وکیلوں سے بڑے بدمعاش اور بد ذآت ہیں ۔۔ شرابی لفافہ بردار بدکار صحافی ۔ بتاو نا اس وقت قانون کہاں لے لیا تھا تم لوگوں نے اور اخلاقیات کو وائیبریٹ پر لگا کر کون انجوائے کر رہا تھا جب ایم کیوایم کے خلاف اس وقت کا وزیر داخلہ کہتا ہے کہ ان کو اٹھاو ۔۔ جو آج تم جیسے کنجروں کو ۔۔ خواجہ اظہار کی بیوی کو دھکے لگتے دیکھ کر اخلاقیات یاد آرہی ہے ۔۔ ۔۔ nnif you cant do can any thing about your own protection , then shut the fuck up and shove the ethics in your G , got it G for Gharida .. ?nnغریدہ فاروقی سے کوئی پرابلم نہیں وہ تو ایک نارمل سی نوکرانی ہے ۔۔لیکن سوال پھر یہی ہے۔۔ کہ اوقات میں رہو اور جسٹن بی بی ٹائپ کے ٹالک شو کیا کرو بس ۔۔ یہ سیاسی چے پائیں اور اخلاقیات کی کہانیاں ہمیں نہیں سناو

اترك رد